پٹنہ،3؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) زرعی قوانین کے خلاف اپوزیشن کا پوری ریاست بہار میں احتجاج و مظاہرہ جاری ہے۔ راجدھانی پٹنہ سمیت کئی اضلاع میں بائیں محاذ کے کارکنان سڑک پر اترآئے ہیں۔ مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی جارہی ہے ایسے میں سی پی آئی رہنما کنہیا کمار نے بھی اس مظاہرہ میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہے حکومت اگر زرعی قوانین کو واپس نہیں لیتی تو بہار کے کسان بھی دہلی کوچ کرجائیں گے۔ انہوں نےکہا کہ مرکزی حکومت ایک طرف کسانوں کو گمراہ کررہی ہے تو ہیں کسانوں پر غلط الزام بھی لگا رہی ہے۔
کنہیا کمار نے کہا کہ بہار کے کسانوں کی حالت بھی خراب ہے۔ کسی بھی فصل کی خرید ایم ایس پی پر نہیں ہوتی ہے۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کراتےہوئے کہا کہ مرکزی حکومت اگر کاشتکاروں کی بات نہیں مانتی تو پھر بہار کے کسان بھی دہلی کوچ کریں گے۔ کسانوں کو بھڑکانے کے مودی کے بیان پر کنہیا کمار نے طنز کیا اور کہا کہ پی ایم کو لگتا ہے کہ صرف وہی عقلمند ہیں اور باقی سب بے وقوف ہیں۔ تحریک کو کمزور کرنے کیلئے انہوں نے ایسا بیان دیا ہے۔ سی پی آئی رہنما نے کہا کہ کسان ہمارا پیٹ پالتے ہیں، وہ کسی کی باتوں میں کیوں آئیں گے۔اس سے قبل سی پی آئی- ایم ایل کی ریاستی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ پٹنہ میںہوئی۔ اس موقع پر دھریندر جھا نے کہا کہ کسانوں کی تحریک اب پورے ملک میں پھیل رہی ہے، پارٹی اور کسان تنظیم بہار میں ان تینوں سیاہ قوانین کی اصلیت سے کسانوں کو واقف کرائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈر غلط بیان بازی کرکے کسانوں کوٹھگنے کا کام کررہے ہیں۔ وہیں ریاست میں مینمم سپورٹ پرائز پر دھان خرید کی گارنٹی کے سوال پر مالے اور کسان مہاسبھا مل کر گائوںمیں جائیں گے اور تحریک چلائیں گے اور دھان کی خرید کیلئے سرکاری کو مجبور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 3-4 دسمبر کو مالے کی مرکزی کمیٹی کی میٹنگ پٹنہ میں ہوگی اس میں بہار اسمبلی انتخاب کی روشنی میں مغربی بنگال ، آسام او ردوسری ریاستوں میں ہونے والے انتخابات پر بات چیت کا امکان ہے۔ دوسری طرف آج کی تحریک میں مالے کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ بھی شریک ہوئے۔اس دوران سودیش بھٹاچاریہ ، کنال ، راج رام سنگھ، محبوب عالم، رام جتن شرمابھی موجود تھے۔